بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آج اس عظیم سائنسدان کی برسی ہے جس نے رصدگاہِ مراغہ (Maragheh observatory) کی بنیاد رکھ کر اُس وقت کی دنیا کے سب سے ترقی یافتہ فلکیاتی مراکز میں سے ایک کو وجود بخشا۔
دوسری اور اخری قسط:
• مراغہ کی رصدگاہِ
یہ رصدگاہ ایران کی پہلی بڑی رصدگاہ تھی جو مشرقِ وسطیٰ میں سائنس کے سنہری دور میں اس وقت تعمیر ہوئی جب ابھی دوربین اور جدید فلکیاتی آلات موجود نہیں تھے۔ ان حالات کے باوجود، اس مجموعے کے فلکیاتی آلات اور اوزار ایرانی سائنسدانوں کی محنت کا نتیجہ تھے اور اپنے زمانے میں پوری دنیا میں بے مثال سمجھے جاتے تھے۔
رصدگاہِ مراغہ کی تعمیر میں 15 سال کا عرصہ لگا۔ اس کی تکمیل کے بعد، ہلاکو کی کوششوں سے، ـ جو خواجہ نصیر سے متاثر ہو کر علم و ثقافت کا شوقین بن گیا تھا، ـ فلکیاتی آلات اور متعلقہ کتابیں اس میں جمع کی گئیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے مراغہ عالمِ اسلام کے اہم ترین علمی اور سائنسی مراکز میں سے ایک بن گیا اور مختلف علاقوں سے بہت سے سائنسدان، ماہرینِ فلکیات اور شائقین اس مرکز میں اکٹھے ہوئے۔
خواجہ نصیرالدین طوسی کے دیگر عظیم اقدامات میں سے ایک رصدگاہِ مراغہ کے ساتھ ایک بڑی لائبریری کا قیام تھا۔ اس لائبریری نے ہزاروں جلدیں علمی کتابیں محققین کی دسترس میں قرار دیں اور مراغہ کو عالمِ اسلام کے علمی قطب میں تبدیل ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔
رصدگاہِ مراغہ کی عظمت اس حد تک تھی کہ برسوں تک اسے دنیا کی سب سے بڑی رصدگاہ کہا جاتا رہا۔ یہ مجموعہ نہ صرف آسمان کی رصدگاہی کا مرکز تھا بلکہ قرونِ وسطیٰ میں دنیا کے اہم ترین علمی مراکز میں سے ایک تھا اور عالمِ اسلام میں فلکیات کی ترقی اور علمی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
• علامہ حلی اور قطب الدین شیرازی جیسے شاگرد
خواجہ نصیرالدین طوسی نے علامہ حلی، ابن میثم بحرانی، قطب الدین شیرازی، کمال الدین عبدالرزاق شیبانی بغدادی اور سید رکن الدین استرآبادی جیسے نمایاں شاگردوں تربیت دی، جو اپنے دور کی علمی شخصیات میں سے تھے اور سبہی استاد کے راستے گامزن رہے۔
آج، اس عظیم سائنسدان کی وفات کے 752 سال گذرنے کے باوجود، خواجہ نصیرالدین طوسی کا نام آج بھی ایران اور دنیا کی تاریخ کے بااثر ترین سائنسدانوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے؛ ایک مفکر جس نے مثلثیات کو علیحدہ علم کے طور پر متعارف کروایا، رصدگاہِ مراغہ کی بنیاد رکھی، سائنسدانوں کی آنے والی نسلوں کو تربیت دی، اور سائنس کی تاریخ کے لئے ایک پائیدار میراث چھوڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ اردو میں زیج کے معنی: جنتری جس میں سیّاروں کی حرکات قلمبند کی جاتی ہیں، تقویم، حرکاتِ سیّارگان کی جدول۔ (ریختہ ڈکشنری)
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: راضیہ بلالی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ